29 اگست 2025 - 02:37
اسرائیل زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے، سید عبدالملک بدرالدین الحوثی

انصار اللہ یمن کے قائد نے کہا: "اسرائیلی دشمن جان بوجھ کر، کھلم کھلا اور پہلے سے طے کردہ منصوبہ بندی کے ساتھ فلسطینی عوام کو زیادہ سے زیادہ تباہ کرنے کے درپے ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، انصار اللہ یمن کے قائد سید عبدالملک بدرالدین الحوثی، نے واضح کیا کہ "اسرائیلی دشمن ہر ہفتے نسل کشی کے تمام ہتھیاروں، قتل عام اور بھوکا مارنے کی پالیسی کے ذریعے غزہ میں فلسطینی قوم کو نشانہ بنا رہا ہے۔"

انہوں نے کہا: "ہسپتالوں کو نشانہ بنانے کا جرم ایک انتہائی وحشیانہ اور بہیمانہ جرم ہے۔"

قائد انصارالله نے کہا: "غزہ میں قتل عام، مصنوعی قحط اور تباہی و بربادی کے صہیونی جرم میں امریکہ بھی برابر کا شریک ہے، واشنگٹن تل ابیب کا حامی ہے اور ان دونوں نے مل کر امداد بانٹنے کے بہانے بھوکے فلسطینیوں کے لئے موت کے جال بچھائے ہیں اور ہر روز درجنوں فلسطینیوں کو امداد کے حصول کے لئے لگی ہوئی قطاروں میں نشانہ بنا کر قتل کر رہے ہیں؛ وہ انسانوں کی جانوں کو کوئی اہمیت نہیں دتے اور تمام مقدسات کی بے حرمتی کر رہے ہیں، اور ہم ان کے ان رویوں کی مذمت کرتے ہیں۔"

انہوں نے واضح کیا کہ "اسرائیلی دشمن جان بوجھ کر غزہ میں فلسطینی عوام کو نسل کشی کے تمام طریقوں کو بروئے کار لا کر اور قتل عام اور مصنوعی بھکمری کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ غیر فوجیوں کو تباہ کر سکے۔"

سید عبدالملک الحوثی نے زور دے کر کہا کہ "غاصبوں کے جرائم ان کے وحشی پن اور ایک تاریک نظریے کی عکاسی کرتے ہیں، کیونکہ وہ وحشیانہ طور پر غیر فوجیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، بے روک ٹوک انہیں مار رہے ہیں اور تمام انسانی اقدار کو پامال کر رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کیا: "بین الاقوامی برادری اسرائیل کی جبر و جنایت پر گواہی دے رہی ہے، جبکہ غاصبوں کی کابینہ الہی تعلیمات یا انسانی حقوق کا احترام کیے بغیر انسانوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔"

قائد انصارالله نے کہا: "اسرائیلی دشمن جو کچھ کر رہا ہے، وہ انسان کی فطرت سے انحراف اور انسانی و اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔"

انہوں نے اضافہ کیا: "بھوک کے ذریعے تباہی واقعی ایک خوفناک جرم ہے، اور یہ جرم خطے میں ـ جسے وہ مشرق وسطی کہتے ہیں ـ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، نیز یہ عالمی سطح پر بھی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔"

سید عبدالملک الحوثی نے واضح کیا: "اسرائیلی دشمن نے 98 فیصد زرعی تنصیبات کو تباہ کر دیا، زرعی شعبے کو مفلوج کر دیا اور غزہ کے عوام کو ان کی ضروری روزی روٹی اور ضروری وسائل کے حصول سے محروم کر دیا۔ زرعی شعبے کی تباہی کے بعد، اسرائیلی دشمن نے غزہ کے عوام تک سامان کی ترسیل روک دی، اور پھر، جب آبادی ٹوٹنے کے نقطے پر پہنچ گئی، تو اس نے غزہ کی پٹی کے بندرگاہوں تک امدادی سامان کے داخلے کو بھی روک دیا۔"

انھوں نے نشاندہی کی کہ "اسرائیلی دشمن امدادی سامان کو بندرگاہوں میں اس وقت تک روکے رکھتا ہے جب تک کہ وہ خراب نہ ہو جائے یا ان کی میعاد ختم نہ ہو جائے، یہی نہیں بلکہ وہ بہت سی ضروری اشیاء کو جلا کر راکھ بھی کر دیتا ہے۔"

سید عبدالملک الحوثی نے مزید کہا: "جو کوئی بھی غور کرے کہ مغربی ممالک اسرائیلی دشمن کو کیا کیا چیزیں فراہم کرتے ہیں، وہ یہ بھی جان لے گا کہ مغرب اس وحشی اسرائیلی دشمن کا سب سے بڑا حامی ہے۔ اکثر یورپی ممالک نے اسرائیلی دشمن پر جرائم روکنے کے لئے، دباؤ ڈالنے کے لئے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔"

انھوں نے امریکیوں کو اس منصوبہ بند جرائم اور منظم نسل کشی کی پالیسی میں برابر کا شریک قرار دیا۔

قائد انصاراللہ نے زور دے کر کہا: "مسلم دنیا، مسلمان حکومتوں، رہنماؤں اور مفکرین نیز دانشور طبقات پر دینی و مذہبی اور اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہیں، اور ان کی بنیادی ذمہ داری یہی ہے۔ عرب قوم خود کو مسجد الاقصیٰ کے خلاف یہودی آبادکارون کے جرائم کے سامنے 'ناسمجھی کی اداکاری' کر رہی ہے۔"

سید عبدالملک الحوثی نے کہا: "مسجد الاقصیٰ پر ہیکل سلیمانی (Solomon's Temple) تعمیر کرنا صیہونیوں کا بنیادی وہم ہے، لیکن وہ وہم میں مبتلا ہیں اور مسجد کے نیچے جتنی بھی کھدائی کر لیں، انہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملے گا کہ وہاں کبھی ہیکل موجود تھا۔"

انھوں نے نشاندہی کی کہ دشمن امریکیوں کے تعاون سے ہر روز فلسطینیوں کو تباہ کرنے کے مقصد سے موت کے جال بچھاتا ہے اور صدی کے جرم اور موجودہ دور کی رسوائی کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہے، کیونکہ اسے بعض عرب حکومتوں نے حمایت یا پھر خاموشی کی یقین دہانی کرائی ہے، یہی نہیں بلکہ عرب حکومتیں ان کی حوصلہ افزائی، پشت پناہی اور حمایت بھی کرتی ہیں۔

انصار اللہ کے رہبر نے خبردار کیا: "وہ دن آئے گا جب شامیوں کو سب سے زیادہ پیسے دے کر پانی خریدنا پڑے گا۔ اسرائیل نے شام میں اس قدر جولانیاں کیں کہ دمشق تک پہنچ گیا۔ فی الحال شام کا ایک بڑا رقبہ 'اسرائیل' کے قبضے میں ہے جسے وہ 'ڈیوڈ کوریڈور' کہتا ہے۔"

انھوں نے مزید کہا: "اسرائیلی دشمن کے خلاف یمن محاذ کی کارروائیوں کے تسلسل میں اس ہفتے مقبوضہ فلسطین میں واقع 'یافا' (نام نہاد تل ابیب) اور 'عسقلان' میں صہیونی مراکز کو ہائپر سونک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔"

سید عبدالملک الحوثی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "ہماری میزائل فورسز نے ہمیں 'فلسطین 2' میزائلوں کے لئے کلسٹر وارہیڈز کی تیاری کی خوشخبری دی ہے جو ایک معیاری کامیابی کے طور پر صہیونی دشمنوں کو پریشان کر رہی ہے۔ فلسطین 2 میزائلوں کے کلسٹر وارہیڈز متعدد وارہیڈز میں تقسیم ہوتے ہیں اور یہ ایک انتہائی اہم معیاری کامیابی ہے جس نے صہیونی دشمنوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔"

انھوں نے واضح کیا: "آپریشن کے دوران، 200 سے زائد مقامات پر فضائی حملے کے سائرن بجے، لاکھوں صہیونی فرار ہوکر پناہ گاہوں میں پہنچ گئئے۔ 'لود' ایئرپورٹ کی پروازیں معطل ہو گئیں اور مسافر بھاگ گئے۔"

انھوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا: "ہمارے ملک پر اسرائیلی جارحیت ایک لاحاصل کام ہے۔ تیل کی کمپنی کے اسٹیشن اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانا ایک لاحاصل جارحیت ہے۔"

انھوں نے مزید: "جب اسرائیلی دشمن عوامی خدمات فراہم کرنے والی سہولیات کو نشانہ بناتا ہے جو یمن کے تمام عوام کے لئے ہیں، تو درحقیقت وہ عوام سے اعلان کر رہا ہے کہ 'میں تم سب کو نشانہ بنا رہا ہوں۔' اور ثابت شدہ امر ہے کہ اسرائیل کے لئے شہری اور فوجی میں کوئی فرق نہیں ہے۔"

سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کی اس ہفتہ وار خطاب کے دوران ہی دارالحکومت صنعاء صہیونی ریاست کے مسلسل حملوں کا نشانہ بنا۔

یمنی ذرائع کے مطابق، یہ حملے شہر کے مختلف مقامات پر کیے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ صنعاء کے جنوب میں واقع "جبل عطان" کا علاقہ اس حملے کا سب سے اہم ہدف تھا۔

صہیونی چینل i14 نے بھی رپورٹ دی کہ اس ریاست کی فوج نے یمن پر شدید اور غیر معمولی حملے کیے ہیں۔

یہ فضائی حملہ سید عبدالملک الحوثی کی ہفتہ وار تقریر کے دوران ہؤا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha